92 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے ایران جنگ کے بعد فاتح بن کر سامنے آیا ہے: سروے

*Daily Urdu Media*

اسرائیلی اخبار کے مطابق عبرانی یونیورسٹی اور آگام انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ سروے میں سامنے آیا ہے کہ ایران سے حالیہ جنگ اور اس کے بعد تہران واشنگٹن کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اسرائیلی عوام کی اکثریت منفی نظر سے دیکھتی ہے۔ سروے کے مطابق 92.1 فیصد اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ اس تنازع کے بعد ایران فاتح رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی قیادت والے دائیں بازو کے اتحاد کے حامیوں میں بھی 93.1 فیصد افراد نے ایران کی کامیابی کا اظہار کیا۔ 82.9 فیصد کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف چھ ہفتے جاری رہنے والی فوجی مہم نے اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کو کمزور کیا ہے، جب کہ 86 فیصد نے جنگ کے نتائج اور اسرائیل کی شمولیت کے بغیر طے پانے والے ایران-امریکا معاہدے پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

سروے میں 87.8 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے اعلان کردہ جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا یا صرف محدود مقاصد حاصل کر سکا۔ 72.5 فیصد نے وزیراعظم نیتن یاہو کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور ایک وجودی خطرہ ختم کر دیا۔

نتائج کے مطابق 69.1 فیصد افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کو ناکام یا کمزور قرار دیا۔ اسی طرح 61.3 فیصد کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل حماس اور حزب اللہ کے خلاف اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا، جب کہ 26.5 فیصد نے بعض محدود کامیابیوں کا اعتراف کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں