پاکستان کرکٹ بورڈ کا سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم تبدیل کرنے کا اعلان، فارمیٹ بنیادوں پر نیا ماڈل متعارف

چیئرمین محسن نقوی کی زیر قیادت تاریخی اصلاحات، ٹیسٹ اور ٹی20 کرکٹرز کے لیے الگ راستے اور مراعات مقرر
لاہور: Pakistan Cricket Board نے کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین Syed Mohsin Naqvi کی زیر قیادت تیار کیے گئے اس نظام کا مقصد مختلف فارمیٹس میں کھیلنے والے کرکٹرز کی ضروریات، ذمہ داریوں اور مواقع کو الگ انداز میں تسلیم کرنا ہے۔
پی سی بی کے مطابق ماضی میں تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی کے تحت رکھا جاتا تھا، تاہم جدید کرکٹ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب “ایک ہی نظام سب کے لیے” کی پالیسی ختم کر دی گئی ہے۔ نئے ماڈل میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ کے لیے الگ الگ راستے متعین کیے گئے ہیں تاکہ ہر فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کے ساتھ منصفانہ اور شفاف سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
نئے فریم ورک کے تحت ہر سینٹرل کانٹریکٹ یافتہ کھلاڑی کو ایک مخصوص “فارمیٹ پاتھ وے” سے منسلک کیا جائے گا۔ بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مشتمل ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال اور ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔ کھلاڑی کے منتخب کردہ پاتھ وے کی بنیاد پر اس سے متعلق توقعات، مراعات اور مواقع کا تعین کیا جائے گا۔
چار گریڈز کے بجائے پانچ فارمیٹ ٹریکس
پی سی بی نے روایتی A، B، C اور D کیٹیگریز کی جگہ پانچ فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے:
ٹریک AB: ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس کے نمایاں کھلاڑی
ٹریک A: ٹیسٹ کرکٹ کے سپیشلسٹ کھلاڑی
ٹریک BC: ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل سپیشلسٹ
ٹریک D: ٹی20 انٹرنیشنل اور فرنچائز کرکٹ کے ماہر کھلاڑی
ہر ٹریک میں کارکردگی کی بنیاد پر دو داخلی درجات بھی موجود ہوں گے، جن میں ترقی اور تنزلی ممکن ہوگی۔
ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے خصوصی مراعات
نئے نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ سپیشلسٹ کرکٹرز کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال لیگز میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم یہ اجازت صرف ریڈ بال کرکٹ تک محدود ہوگی جبکہ ٹی20 فرنچائز لیگز بدستور اس گروپ کے لیے محدود رہیں گی۔
پی سی بی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو عالمی معیار کے سخت فرسٹ کلاس ماحول میں کھیلنے کا موقع فراہم کرنا اور قومی ٹیم کے لیے ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنا ہے۔
سینٹرل کانٹریکٹ کے لیے نئی اہلیت
نئے فریم ورک کے تحت سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو تین مراحل پر مشتمل نظام سے گزرنا ہوگا:
جامع میڈیکل اور فٹنس اسسمنٹ
ڈومیسٹک کرکٹ میں لازمی شرکت
کارکردگی کا تفصیلی جائزہ
شفافیت اور جوابدہی پر زور
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیا نظام کھلاڑیوں کی وابستگی اور کارکردگی کی بنیاد پر زیادہ شفاف اور جوابدہ انداز میں فیصلے کرنے میں مدد دے گا۔ ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے متعلقہ فارمیٹ ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا، جس سے مختلف فارمیٹس کے درمیان غیر ضروری مقابلے کا خاتمہ ہو جائے گا۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ یہ نیا سینٹرل کانٹریکٹ فریم ورک 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور سابقہ نظام کی جگہ لے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں