اسلام آباد: کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد کے زیر اہتمام 80 کروڑ روپے مالیت کی ضبط شدہ اسمگل شدہ ممنوعہ اشیاء تلف*

اسلام آباد، 30 جون 2026:* کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ)، اسلام آباد نے منگل، 30 جون 2026 کو اسلام آباد ڈرائی پورٹ، ایچ-9/4 میں اسمگل شدہ ضبط شدہ ممنوعہ اشیاء کی تلفی کی باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا۔

تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد تقریباً 80 کروڑ روپے مالیت کی ضبط شدہ اسمگل شدہ اشیاء کو قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت تلف کر دیا گیا۔ تلف شدہ اشیاء میں شراب، موبائل فون، سگریٹ، غذائی اشیاء اور دیگر ممنوعہ سامان شامل تھا۔

تقریب میں چیف کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) جناب باسط مقصود عباسی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر کلکٹر کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد جناب رضوان صلابت سمیت محکمہ کے افسران و اہلکاران بھی موجود تھے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف کلکٹر جناب باسط مقصود عباسی نے کہا کہ پاکستان کسٹمز اسمگلنگ کے خلاف “زیرو ٹالرنس” پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ قومی خزانے، قانونی کاروبار، مقامی صنعت اور مجموعی قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسٹمز سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر انفورسمنٹ کو مضبوط کرنے اور کسٹمز قوانین کے مکمل نفاذ کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کلکٹریٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے افسران پر زور دیا کہ وہ دیانتداری اور پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ فرائض سرانجام دیں۔

کلکٹر کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد جناب رضوان صلابت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے اور تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کسٹمز غیر قانونی تجارت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھے گا۔

تقریب کا اختتام ضبط شدہ اسمگل شدہ ممنوعہ اشیاء کی تلفی کے ساتھ ہوا، جو پاکستان کسٹمز کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کسٹمز قوانین پر مؤثر عمل درآمد، قومی معیشت کے تحفظ اور اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اپنی انفورسمنٹ کارروائیاں پوری قوت سے جاری ر

اپنا تبصرہ بھیجیں