*Daily Urdu Media*
*اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورتحال، آزاد کشمیر کے مسائل اور آئندہ انتخابات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔*
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے جس کی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان میں حمایت کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم اس سلسلے میں مثبت قدم اٹھائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہاں آنا پیش رفت ہے اور 12 نشستوں سے متعلق معاملات مذاکرات کی میز پر طے کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی ہے جس پر وہ جماعتی مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ آزاد کشمیر کی مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کے معاملے پر انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو دلیل سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ وہ سیاسی معاملات میں مولانا فضل الرحمان سے رہنمائی لیتے رہتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ آزاد کشمیر کے مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا غیر متنازع ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ماضی میں طاہر القادری، پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کے دھرنوں کا سیاسی حل نکالا گیا ہے۔ احتجاج جمہوری حق ہے لیکن اسے پرامن رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے میں شامل نکات پر عملدرآمد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی آزاد کشمیر میں مل کر حکومت بنائیں گی۔ ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور سندھ سمیت دیگر علاقوں میں بھی مشترکہ حکومتیں تشکیل دی جائیں تاکہ کشمیر کاز کو کسی صورت نقصان نہ پہنچے۔





