**ڈیلی اردو میڈیا:** وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ انتہائی اہم نوعیت کا ہے، جس پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہونی چاہیے، جبکہ اس حوالے سے قانون ساز اسمبلی ہی مناسب فورم ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی حقوق کے حصول کا مؤثر راستہ سیاسی جدوجہد ہے، نہ کہ احتجاج یا ہنگامہ آرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کی موجودہ حیثیت قابل قبول نہیں رہی اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کسی شکایت یا گلے کے بجائے ایک آئینی اور جائز مطالبہ ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے اگر کوئی باقاعدہ تجویز یا فارمولا پیش کیا گیا ہے تو وہ ان تک نہیں پہنچا، اس لیے صرف سوشل میڈیا پر آنے والی اطلاعات کی بنیاد پر مؤقف اختیار نہیں کیا جا سکتا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر وزیراعظم آزاد کشمیر اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) سے باضابطہ بات کریں گے تو پارٹی اپنا مؤقف سامنے لائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں فوری طور پر ختم نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی نئی اسمبلی اگر مناسب سمجھے تو آئینی ترمیم کے ذریعے اس معاملے پر فیصلہ کر سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رہیں گی۔





