اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے اتحادی جماعتوں کے تعاون پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دفاعی کامیابیوں نے پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کیا ہے اور دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد اور خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ترسیلات زر مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے زائد رہنے کی توقع ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سود کی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پینشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح سبسڈی کے لیے 1091 ارب روپے، سول حکومت کے اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی جاری اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1050 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔





