وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جیل میں گزارا گیا وقت ان کے لیے انتہائی مشکل تھا اور انہی تجربات کی بنیاد پر پنجاب میں جیل اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔
جیل اصلاحات سے متعلق جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں 45 جیلیں موجود ہیں۔ ان جیلوں کی مجموعی گنجائش تقریباً 39 ہزار قیدیوں کی ہے، تاہم اس وقت 70 ہزار سے زائد افراد قید ہیں، جس کے باعث اصلاحات کی ضرورت ناگزیر تھی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا، جہاں جیل کے کمرے میں ہی واش روم موجود تھا اور نماز کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ کا تعین بھی مشکل تھا۔ ان کے بقول جیل میں رازداری نہ ہونے کے برابر تھی اور وہ تجربات ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انہی مشاہدات اور تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کی جیلوں میں متعدد اصلاحات کی گئی ہیں، جن میں قیدیوں کے لیے سہولیات کی فراہمی، ویڈیو لنک کے ذریعے پیشیوں اور اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولت سمیت مختلف فلاحی اقدامات شامل ہیں۔
**وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا خطاب**
جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ قانون کا احترام ہر شہری پر لازم ہے اور سندھ حکومت جیلوں میں جامع اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحالی مراکز قائم کیے گئے ہیں، قیدیوں کی جیل منتقلی سے قبل اسکریننگ کی جاتی ہے، جبکہ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سزا مکمل کرنے کے بعد قیدی معاشرے کے ذمہ دار شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔
**وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا خطاب**
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے اور وہاں آنے والے ملاقاتیوں کے لیے مناسب انتظار گاہ قائم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق قیدیوں کو مختلف سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بیٹوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کی جیلوں میں ای وزٹنگ اور ویڈیو کال کی سہولیات بھی متعارف کرائی جا چکی ہیں۔
**وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا خطاب**
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت نے جیل اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں مسیحی قیدیوں کو عبادت کی سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔





