شہید سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کی نمازجنازہ کون پڑھائےگا؟

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کون پڑھائیں گے، اس حوالے سے تاحال ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تہران، قم اور مشہد میں ہونے والی نماز جنازہ کی امامت ایک ہی شخصیت کرے گی یا مختلف علماء اس ذمہ داری کو انجام دیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ سے منسلک ذرائع کے مطابق مرکزی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی پڑھا سکتے ہیں، تاہم اس کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھی یہ ضروری نہیں کہ کسی سپریم لیڈر کی نماز جنازہ ان کے جانشین ہی پڑھائیں۔ 1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ان کی نماز جنازہ آیت اللہ سید محمد رضا گلپائیگانی نے پڑھائی تھی، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت صفِ اول میں موجود تھے۔ بعد ازاں وہ سپریم لیڈر کے منصب پر منتخب ہوئے۔

ذرائع کے مطابق نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای اس وقت منصب سنبھال چکے ہیں، تاہم ان کی سکیورٹی کے پیشِ نظر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا وہ اپنے والد کی نماز جنازہ کی امامت کریں گے یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق نئے سپریم لیڈر کی سکیورٹی کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے اب تک کسی غیر ملکی شخصیت سے عوامی سطح پر ملاقات نہیں کی، جبکہ ان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات بھی محدود رکھی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق نماز جنازہ کے اجتماعات 4 سے 6 جولائی تک تہران، 7 جولائی کو قم، جبکہ 8 جولائی کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں منعقد کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ بعد ازاں میت کو ایران واپس لایا جائے گا، جہاں 9 جولائی کو مشہد میں آخری نماز جنازہ کے بعد تدفین متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان اجتماعات میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نئے سپریم لیڈر کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ایرانی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی شرکت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی انتظامات کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جائے گی۔

اس تمام صورتحال پر ایرانی حکومت کی جانب سے مزید سرکاری اعلانات اور تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں