واشنگٹن: امریکی میڈیا نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مبینہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا باضابطہ متن سامنے لے آیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے 14 نکات پر مشتمل اس دستاویز کی تفصیلات بیان کیں، جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ مذاکرات کے نکات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس دستاویز کو **”Islamabad Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran”** کا عنوان دیا گیا ہے۔
مسودے کے مطابق امریکا اور ایران فوری اور مستقل جنگ بندی کے اعلان، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کے پابند ہوں گے۔ دونوں ممالک 60 روز کے اندر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کریں گے۔
معاہدے میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت، ایران پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، اور ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے پر بھی غور شامل ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکا تمام یکطرفہ اور بین الاقوامی پابندیاں ختم کرے گا جبکہ ایران اس بات کی تصدیق کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ یورینیم افزودگی اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں طے کیے جائیں گے۔
مزید یہ کہ دونوں ممالک موجودہ صورتحال کو برقرار رکھتے ہوئے نئی پابندیوں اور اضافی فوجی اقدامات سے گریز کریں گے، جبکہ ایرانی تیل اور مالیاتی شعبے کے لیے مخصوص اجازت نامے بھی جاری کیے جائیں گے۔
مسودے کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کیا جائے گا، اور حتمی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔





