**ڈیلی اردو میڈیا:** امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے سال کے دوران کم از کم 2.2 ارب ڈالر کی مجموعی آمدن حاصل کی، جس میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے ہونے والی کمائی نمایاں رہی۔
سال 2025 کی 927 صفحات پر مشتمل مالیاتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کرپٹو سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زائد آمدن حاصل کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں **سیلیبریشن کوائنز** سے 635 ملین ڈالر کی رائلٹی ملی، جبکہ **ورلڈ لبرٹی فنانشل** نامی کرپٹو کمپنی سے 500 ملین ڈالر سے زیادہ کی آمدن ہوئی۔ اس کمپنی کی بنیاد ٹرمپ کے بیٹوں اور ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بچوں نے رکھی تھی۔
رپورٹ کے مطابق کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والی آمدن نے پہلی بار ٹرمپ کے روایتی رئیل اسٹیٹ کاروبار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جو طویل عرصے سے ان کی دولت اور کاروباری شناخت کا اہم ذریعہ رہا ہے۔
مالیاتی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنے مارا لاگو کلب سے تقریباً 77 ملین ڈالر، جبکہ ڈورال گالف کلب سے 122 ملین ڈالر کمائے۔ اس کے علاوہ نیو جرسی، فلوریڈا اور اسکاٹ لینڈ میں موجود ان کے مختلف گالف کلبز سے بھی 30، 30 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب گھڑیوں، جوتوں، خوشبوؤں اور گٹار سمیت دیگر برانڈڈ مصنوعات سے تقریباً 4.7 ملین ڈالر کی رائلٹی حاصل کی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی منصب کو مالی فوائد کے لیے استعمال کیا، اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام کاروباری سرگرمیاں قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔





