پیرس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور امریکا ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔
فرانس میں منعقدہ جی سیون اجلاس کے موقع پر امیرِ قطر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ قطر نے معاملات کو جس انداز میں سنبھالا، وہ اس سے خوش ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک منصفانہ معاہدہ طے پایا ہے، تاہم امریکا ایران میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور امریکا کی خواہش ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم اس کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، تاہم اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے لبنان میں جاری کشیدگی کو نسبتاً محدود تنازع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپی جائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو واضح طور پر بتایا تھا کہ بیروت پر حملہ انہیں پسند نہیں آیا۔ ان کے بقول اگر اسرائیل بغیر بڑے جانی نقصان کے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا تو یہ ذمہ داری شام کے سپرد کی جانی چاہیے۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ روس کو بھی یوکرین کے ساتھ معاہدے کی جانب بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جی سیون اجلاس کے موقع پر ان کی یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات ہوئی۔





