مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بھارت میں ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا، ڈیزل کی فروخت پر نئی پابندیاں

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے ڈیزل کی فروخت پر عارضی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔

بین الاقوامی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود سپلائی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس سے ملک میں توانائی کے شعبے کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔

صورتحال کے پیش نظر بھارتی حکومت نے پیٹرول پمپ ڈیلرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ کسی ایک گاڑی یا صارف کو یومیہ 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ تجارتی صارفین کو عام ریٹیل پیٹرول پمپس سے ایندھن خریدنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ قلت پر قابو پایا جا سکے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک کو بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

بھارتی حکام کے مطابق موجودہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور صورتحال میں بہتری آنے پر ان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں