نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 10 سے 15 جون کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں آندھی، گرج چمک اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث مقامی سطح پر اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں اور برساتی آبی گزرگاہوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے اضلاع چترال، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام اور مانسہرہ میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
اسی طرح آزاد کشمیر کے مظفرآباد، وادی نیلم، باغ اور راولاکوٹ کے علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کے گپس یاسین، غذر، دیامر، تانگیر، داریل اور گلگت کے مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں اور آبی گزرگاہوں کے قریب رہائش پذیر افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سیاحوں اور مسافروں کو شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری طور پر پہاڑی علاقوں کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ادارے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں، ڈی واٹرنگ مشینری اور دیگر ضروری وسائل تیار رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے 12 سے 15 جون کے دوران گلگت بلتستان اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے متعلق بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ قراقرم ہائی وے اور جگلوٹ-اسکردو روڈ کے مختلف مقامات پر عارضی بندش اور سفری مشکلات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مزید برآں عطا آباد ٹنل، شمشال، خپلو اور مشرقی بلتستان کے علاقوں میں پہاڑی ڈھلوانوں سے لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں اور ہنگامی امدادی ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری ردِعمل کے لیے الرٹ رہیں اور ضروری مشینری و وسائل ہر وقت تیار رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔





