چار ملکی ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کو 0-2 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
مالدیپ میں کھیلے گئے فائنل میچ کے 24ویں منٹ میں پاکستان کے شائق دوست نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے گول اسکور کیا، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم کو ابتدائی برتری حاصل ہوئی۔ ان کی اس شاندار کوشش کو شائقین نے بھرپور سراہا۔
میچ کے اختتامی لمحات میں ہارون حامد نے ایک اور اہم گول کر کے پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی اور اسکور 0-2 کر دیا۔
قومی ٹیم کی اس کامیاب مہم کا نمایاں پہلو اس کا مضبوط دفاع رہا، کیونکہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران کسی بھی حریف ٹیم کو پاکستان کے خلاف گول کرنے کا موقع نہیں ملا۔
یہ کامیابی پاکستان فٹبال کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ قومی ٹیم نے پہلی مرتبہ کسی باقاعدہ بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے 1952 کے سیلون کپ میں بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر ٹائٹل جیتا تھا، جبکہ 1991 کے ساؤتھ ایشین گیمز میں قومی ٹیم نے سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ تاہم وہ ایک ملٹی اسپورٹس ایونٹ تھا، اس لیے مالدیپ میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔
فٹبال شائقین کے مطابق یہ فتح محض ایک ٹائٹل جیتنے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان فٹبال میں امید، اعتماد اور ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی ثابت ہو سکتی ہے۔





